سعودی عرب میں انتشار

Part I

سعودی عرب میں انتشار حصہ اول
http://www.masoodanwar.com
hellomasood@gmail.com

مسعود انور
سعودی عرب میں محمد بن سلمان کو نائب ولی عہد مقرر کرنے کے بعد ایک کالم ’سعودی عرب بغاوت کے دہانے پر ‘ سپرد قلم کیا تھا۔ اس کالم کا پہلا پیراگراف ہی یہی تھا ۔ ’سعودی عرب طوفانوں کی زد میں ہے۔ شاہ عبداللہ کے انتقال کے بعد سے معاملات تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں۔ پہلے یمن کا محاذ کھلا، اس کے بعد قطر کا نیا محاذ کھول دیا گیا۔ شاہ سلمان نے اقتدار سنبھالتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ اپنے بیٹے محمد بن سلمان جو مغربی ذرائع ابلاغ میں MBS کے نام سے معروف ہیں کو نائب ولی عہد مقرر کردیا۔ یہ آل سعود کی روایت کے برخلاف تھا۔ اس کے ساتھ ہی انہیں وزیر دفاع مقرر کرکے بتدریج اختیارات مرتکز کرنے شروع کردیے۔ کہتے ہیں کہ پوت کے پاؤں پالنے میں ہی نظر آجاتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ MBS کے ساتھ رہا۔ تجزیہ نگاروں نے پہلے دن سے ہی دال میں کالا دیکھنا شروع کردیا تھا۔ MBS کو مغربی سفارتکار ایک اور نام سے بھی پکارتے ہیں اور وہ ہے Mr. Everything۔
نائب ولی عہد بنتے ہی MBS کو وزیر دفاع بھی بنادیا گیا اور یوں ملک کی فوج ان کے زیر نگیں آگئی۔ MBS نے یمن کی سول وار میں کودنے کا فیصلہ کیا اور حوثیوں کے خلاف کارروائی شروع کردی جس کا آج تک کوئی نتیجہ سوائے سعودی عرب کی معاشی تباہی کے کچھ نہیں نکلا۔ یمن کے معاملات سنبھلنے نہیں پائے تھے کہ انہوں نے انسداد دہشت گردی کے نام پر اسلامی اتحادی فوج کھڑی کردی۔ ابھی تک اس فوج کے اغراض و مقاصد واضح نہیں ہوپائے ہیں۔ نئے نائب ولی عہد نے فوجی کے ساتھ ساتھ معاشی اختیارات کی بھی فرمائش کردی جو ان کے والد شاہ سلمان نے پوری کردی۔ اس کے لیے انہیں جونیئر نائب وزیراعظم کے ساتھ ساتھ کونسل فار اکنامک اینڈ ڈیولپمنٹ افیئرز کا سربراہ بھی مقرر کردیا گیا۔ اس طرح ملک کی معاشی پالیسیاں اب MBS کے تابع ہوگئیں۔ سعودی معیشت کی ری اسٹرکچرنگ کے لیے MBS نے وژن 2030 پیش کردیا۔
MBS کو اچانک ولی عہد مقرر کرنے کی کیا وجوہات ہوسکتی ہیں اور اس کے کیا نتائج سامنے آئیں گے۔ یہ وہ اہم سوالات ہیں جس کے جواب بوجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ مت سمجھیں کہ یہ سعودی عرب کا اندرونی معاملہ ہے۔ یہ معاملہ سعودی عرب کے اندرونی و خاندانی معاملے سے بڑھ کر خطے کی سلامتی کا معاملہ بن چکا ہے۔ ‘
اس تحریر کو لکھے چار ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے ۔جو دھندلے خاکے جون میں نظر آرہے تھے ، وہ سارے خدشات اب واضح اور صاف ہوگئے ہیں ۔بدقسمتی سے صاف اور واضح ہونے کے بعد ان خدشات کی ہولناکی اور سنگینی بھی بڑھ گئی ہے ۔ دیکھنے میں یہ سارا معاملہ تخت اور تاج کا ہے اور اس میں کوئی انہونی بھی نہیں ہے ۔ اس قبل بھی تاریخ انسانی میں ایسا ہی ہوتا آیا ہے کہ ایک شہزادہ تاج و تخت کے لالچ میں اپنے سارے بھائیوں اور خاندان کو تہہ تیغ کرڈالتا ہے ۔ اُسے جہاں سے بھی اپنے تاج و تخت کی راہ میں رکاوٹ نظر آتی ہے وہ اسے بے دریغ ٹھکانے لگادیتا ہے ۔ اگر محمد بن سلمان بھی ایسا ہی کررہا ہے تو اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ بات اگر یہاں تک ہوتی تو کوئی مسئلہ نہیں تھا ۔ سعودی عرب کا شاہی خاندان جانے ، وہاں کے عوام جانیں اور وہاں کے اہل علم جانیں۔
یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ شاہ فیصل کی شہادت محض خاندانی معاملہ نہیں تھا ۔ انہیں راستے سے ہر قیمت پر ہٹانا مقصود تھا تاکہ پھیلی ہوئی عالمی بساط پر مہرے مرضی کے گھروں پر قابض رہ سکیں اور چالیں بین الاقوامی سازش کاروں کے ماتحت ہوں ۔ بدقسمتی سے سعودی شاہی خاندان میں جو کچھ ہورہا ہے وہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔
آئیے اس ابہام کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ محمد بن سلمان جس وقت اپنی راہ میں آنے والے شاہی خاندان کے کانٹوں کو چن رہے تھے، اس سے ایک دن قبل ہی لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری ریاض میں ہی مستعفی ہونے کا اعلان کررہے تھے ۔سعدحریری لبنان کے ساتھ ساتھ سعودی شہریت کے بھی حامل ہیں ۔ کہا گیا کہ سعد حریری کا یہ فیصلہ ان کا اپنا نہیں تھا بلکہ یہ ریاض کا فیصلہ تھا جو انہوں نے دباؤ میں سنایا۔ ان ہی دنوں میں ریاض پر یمن کے علاقے سے فائر کیا جانے والا ایک میزائل بھی فضا میں ہی ناکارہ بنادیاگیا۔ اس میزائیلی حملے کو ناکام بناتے ہی ریاض اور تہران میں پارہ تیزی سے بڑھنے لگا اور ایک دوسرے پر الزامات کے ساتھ ساتھ سبق سکھانے تک نوبت پہنچ گئی ۔ اس جنگی درجہ حرارت میں وقت کے ساتھ ساتھ مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔
معاملات کو چھوٹے چھوٹے خانوں سے نکال کر دیکھیں تو بات کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے ۔ سعد الحریری کا استعفٰی ، ریاض پر میزائیل حملہ ، ریاض اور تہران کے درمیان الزامات کے تبادلے کے پس منظر میں شاہی خاندان میں بغاوت اور اس کے نتیجے میں بااثر شہزادوں کی گرفتاریاں، ان تمام نکات کو جوڑیں تو انتہائی بھیانک شکل سامنے نظر آتی ہے ۔ اور وہ شکل ہے اس خطے میں ایک خوفناک ترین جنگ کی جس کی اس خطے میں اور کوئی مثال نہیں ملتی ۔ نومبر کے پہلے ہفتے میں جو کچھ بھی ہوا وہ اس عالمی سازش کا پہلا مرحلہ تھا ۔ آئندہ چند ہفتوں میں اس کا دوسرا مرحلہ سامنے آنے والا ہے جس کے بعد بلی تھیلے سے باہر آجائے گی ۔ دوسرے مرحلے میں کیا ہونے جارہا ہے ۔ اس پر گفتگو آئندہ کالم میں ان شاء اللہ تعالیٰ ۔
اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔

 

 

Part II

 

مسعود انور

 سعودی شاہی خاندان میں ہونے والی صفائی کے کئی پہلو ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ تمام شہزادے انتہائی مالدار ہیں اور ان کی دولت کا بڑا حصہ امریکی اور یوروپی بینکوں اورکمپنیوں میں موجود ہے ۔ مغربی ممالک میں جائیداد اس کے علاوہ ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق اب تک گرفتار شدگان شہزادوں کی دولت 12 سو ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے ۔ یہ مغربی بینکوں کا ایک اصول ہے کہ وہ دولت جمع کرنے سے منع نہیں کرتے مگر جیسے ہی آپ اس دولت کو نکالنے کی بات کریں وہ اس کی اجازت نہیں دیتے۔ سوئس لیکس، پاناما لیکس اور اس جیسے سارے لیکس اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ یہ بینک خود ہی ان اطلاعات کو لیک کرتے ہیں اور پھر یہ ساری دولت ہڑپ کرجاتے ہیں۔ اس موضوع پر میں تفصیل کے ساتھ پاناما لیکس کے عنوان سے لکھ چکا ہوں۔یہ آرٹیکل میری ویب سائیٹ پر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے ۔

اب یہ سارے گرفتار شدگان شہزادے معتوب ہیں ۔ ہوسکتا ہے کہ ان میں سے بیشتر جان کی بازی ہار جائیں اور یوں مغرب میں موجود ساری دولت ایک ہی داو

¿میں ان بینکاروں کی ہوئی ۔

اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ فطری طور پر اس کا شاہی خاندان میں اور بااثر حلقوں میں شدید ردعمل ہوا ہے جس سے سعودی بادشاہ کی مملکت پر گرفت کمزور ہوئی ہے ۔ جب بھی موقع ملے گا ، یہ عناصر MBS کے خلاف کسی بھی بغاوت کی صورت میں سامنے والی صف میں کھڑے ہوں گے ۔ یہ تو داخلی پہلو ہیں ۔

اب اس کے خارجی پہلو دیکھتے ہیں جو زیادہ خطرناک ہیں ۔ ایک 32 سالہ نوجوان جو توسیع پسندی کے خمار میں ہے ،روز ایک نیا محاذ کھول رہا ہے ۔سب سے پہلے یمن پھر قطر اور اب شاہی خاندان ۔ ٹرمپ کے حالیہ دورے میں دیا جانے والا سواگت بہت کچھ بتانے کے لیے کافی ہے کہ ڈور کس کے ہاتھ میں ہے ۔ ایک بات دوبارہ سے سمجھ لیجیے کہ سعودی عرب کی معاشی حالت کی تباہی کا نقطہ آغاز خلیج کی جنگ تھی ۔ ملکوں کو توڑنے اور اقوام کو غلام بنانے کے لیے جنگوں سے زیادہ کوئی نسخہ کارگر نہیں ہے ۔ سعودی عرب مسلسل حالت جنگ میں ہے ۔ روز ایک نیا محاذ کھولا جارہا ہے ۔ یمن کا محاذ سعودی معیشت کو گھن کی طرح چاٹ چکا ہے اور اب سعودی خاندان کی حکومت کے خاتمے کے لیے صرف ایک زوردار دھکے کی ضرورت ہے جس کا اہتمام کرلیا گیا ہے۔ دوبارہ سے تمام نکات کو دیکھتے ہیں ۔

سعد الحریری لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ ایک مخلوط حکومت کے سربراہ تھے اور دو ماہ قبل تک سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا ۔ ایک دوسرے کی کارکردگی کو سراہا بھی جارہا تھا اور تحسین بھی جار ی تھی کہ اچانک سعد الحریری کو ریاض طلب کیا گیا اور انہوں نے حزب اللہ پر چارج شیٹ پیش کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اب تک سعد الحریری لبنان واپس نہیں پہنچے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی اچانک ریاض پر ایک میزائیل حملے کی کہانی سامنے آئی اور کہا گیا کہ حزب اللہ کی یمن میں موجود شاخ انصاراللہ نے یہ میزائیل حملہ کیا تھا ۔ ساتھ ہی مزید میزائیل حملوں کی دھمکی بھی دے دی گئی ۔

اب اس خطے میں نئی صف بندی ہورہی ہے ۔روس ، ایران، شام اور قطر وغیرہ جبکہ دوسرا گروپ امریکا، اسرائیل، سعودی عرب ، اردن، بحرین اور عرب امارات وغیرہ ۔ میں نے لکھا تھا کہ نومبر کے پہلے ہفتے میں جو کچھ بھی ہوا وہ اس عالمی سازش کا پہلا مرحلہ تھا ۔ آئندہ چند ہفتوں میں اس کا دوسرا مرحلہ سامنے آنے والا ہے۔ یہ دوسرا مرحلہ ہے لبنان میں حزب اللہ کی سرکوبی کے نام پر حملہ ۔ اس حملے میں امریکا ، اسرائیل اور سعودی عرب پیش پیش ہوں گے جبکہ جوابی حملہ کرنے والوں میں روس ، ایران اور شام شامل ہوں گے۔ اس کے نتیجے میں وہ سب کچھ ممکن ہوسکے گا جو عالمی سازش کاروں کا منتہا و مقصود ہے ۔ یعنی سعودی عرب کو انتہائی کمزور حالت میں لانا اور پھر وہاں پر بغاوت کے نتیجے میں عرب امارات کی طرح کی چھوٹی چھوٹی سیٹلائٹ ریاستوں کا قیام۔

گزشتہ دو ماہ کے معاملات کو دوبارہ دیکھیے تو معاملات کو سمجھنے میں آسانی ہوجائے گی ۔ شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ اسرائیل، ٹرمپ کی آوبھگت، ایران کے ساتھ تناومیں اضافہ، اچانک شاہی خاندان میں تطہیر ، ایرانی قیادت کی جانب سے جوابی بیانات، امریکا کی جانب سے شمالی کوریا ، وینیزوئیلا وغیرہ کے لیے اچانک نرم پڑ جانا ۔ اس کا مطلب ہے کہ صف بندی ہورہی ہے ۔ ایک اندازہ ہے کہ دسمبر کے آخر میں حزب اللہ کی سرکوبی کا عمل شروع کردیا جائے گا جس کے ساتھ ہی اس خطے میں وہ لاوا پھوٹے گا جو سب کچھ بہا کر لے جائے گا ۔

اس میں سے کچھ بھی ایسا نہیں ہے جو اچانک ہوگا ۔ یہ سب انتہائی باریک بینی کے ساتھ بنایا گیا دسیوں برس پہلے کا منصوبہ ہے جس پر کامیابی کے ساتھ عمل جاری ہے۔ ’کیا اب سعودی عرب کی باری ہے ‘، اس عنوان سے میں نے 2012 میں ایک آرٹیکل لکھا تھا جو اب بھی میری ویب سائیٹ پر موجود ہے ۔ یہ آرٹیکل جسارت میں شائع ہونے کے بعد ایف بی آئی نے ترجمہ کرکے اپنے تمام تھنک ٹینکوں کو بھیجا تھا ۔ بعد میں اس کا چینی، اسپینی اور روسی سمیت دیگر کئی زبانوںمیں ترجمہ بھی کیا گیا۔اس آرٹیکل میں سعودی عرب کو متحدہ عرب امارات کی طرح چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کرنے کی سازش کا بتایا گیا تھا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جو کچھ بھی ہورہا ہے وہ ایک خود کار عمل کے بجائے ایک منصوبے کے تحت سرانجام دیا جانے والا عمل ہے ۔

اب شکار کو ہانکا لگا کر مطلوبہ مقام پر پہنچادیا گیا ہے ۔ شہزادہ محمد بن سلطان اس چارہ کا کام کررہے ہیں جو بڑی مچھلی کے شکار کے لیے لگایا جاتا ہے ۔ شاہی خاندان میں ہونے والی تطہیر اس سلسلے کا سب سے اہم کام تھا ۔ اب آخری کام بچا ہے اور وہ ہے حزب اللہ کی سرکوبی کے نام پر ایک نئی کثیر القومی جنگ کا آغاز۔ اس میں امریکا اور روس دونوں کی اسلحہ بنانے والی کمپنیاں فائدے میں رہیں گی کیوں کہ وہ صرف اسلحہ فراہم کرنے والوں میں ہوں گے۔ نقصان میں وہ سارے ممالک ہوں گے جو اس جنگ میں شامل ہوں گے۔ ترکی دور سے تماشا دیکھے گا کیوں کہ نئے نقشے میں اسے اسلامی لیڈر کی حیثیت دی گئی ہے ۔ ایک وضاحت دوبارہ سے ۔ امریکا اور روس میں اسلحہ بنانے والی کمپنیاں قومی ملکیت میں نہیں ہیں بلکہ پرائیویٹ کارپوریشن ہیں اور ان کے مالکان بھی الگ الگ نہیں ہیں بلکہ مشترک ہیں ۔ یہ مالکان وہی بینکار ہیں جو فیڈرل ریزرو بینک آف امریکا اور بینک آف انگلینڈ کے مالکان میں شامل ہیں ۔

اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔

 Courtesy: http://www.masoodanwar.com/

Advertisements

Author: myblogpu

Assistant Professor, Institute of Communication Studies, University of the Punjab, Lahore, Pakistan.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s